Dhaka Fall
کسی بھی ناول نگار کے لئے اپنے معاشرے اور اسکے معاملات کو فکشن میں پیش کرنا سہل نہ سہی مگر مشکل بھی نہیں ہے۔ وہ فکشن نگار جو اپنے ناول میں تخیل کی آنچ سے ایک نئی دنیا آباد کرے جو اسکی موجودہ دنیا جس میں وہ رہ رہا ہے اس سے مختلف ہو یقیناً ایک اہم واقعہ ہے۔ رفعت عباس نے یہی کارنامہ کیا ہے۔ ایک ایسے شہر کی تخلیق جو چار ہزار قبل مسیح میں سانس لیتا ہے، اس شہر کا نام “لونڑی” ہے جو لفظ لُون یعنی نمک سے نکلا ہے۔ نمک مقامیت کو پیش کرتا ہے۔ یہاں کے لوگ ناٹک کھیلتے ہیں، سوانگ رچاتے ہیں۔ شیشے بناتے ہیں، یہاں بادل گاڑیاں ہیں۔ یہاں کسی انسان کو موت نہیں آتی۔ یہاں کے شہریوں کے پاس نہ خدا ہے اور نہ ہی جنگی آلات۔ ناٹک گھر اس شہر کی پارلیمنٹ ہے۔ وہ اپنے اور اس شہر کے تمام فیصلے ناٹک کے ذریعے کرتے ہیں۔ انہوں نے اسی ناٹک گھر میں موت کیساتھ کھیل کھیلا اور اسے شکست دی۔ ناول کی کہانی “لونڑکا” کی گمشدگی سے شروع ہوتی ہے۔ وہ لونڑی شہر کا ایک عام سا شہری ہے اور ایک دن اچانک کھو جاتا ہے۔
2016): The Charismatic Leader Quaid-i-Azam Mohammad Ali Jinnah and the Creation of Pakistan (OUP
and history writing
But are ordinary Pakistanis extremists
Paras by Rukhsana Nigar Adnan - پارس conduct of Dhaka FallPages: 304 Category: Novels Urdu Novel Paras, Rukhsana Nigar Adnan, terrific social reformal novel, high moral lessons, teenage girl living luxurious life, short cuts to become rich, ugly aspects and angles of life, story of human emotions, flirting, cheating, deceiving, lust and love, expose the true reality of high society and burger families. different story.